جمعرات , اگست 22 2019
enur
Home / اردو ادب / سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟

سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟

Read in English

یونان کا ایک قدیم مفکر، شکل و صورت قابلِ کراہت تھی. لیکن دانائی و فہم و فراست میں یکتائے زمانہ تھے. اوائل عمری میں اپنے والد کا پیشہ سنگ تراشی اختیار کیا. فوج میں شامل ہوئے، بہادری اور بردباری میں امتیاز حاصل کیا. ہمیشہ فلسفہ کا مطالعہ کرتے رہتے. سچائی اور ایمادارانہ فکر کے متعلق مشہور ہوئے. گھر سے باہر ہرکس و ناکس سے ضروری اور غیر ضروری، غریب اور امیر سب سے ملتے تھے. جس بات پر بحث کرنا چاہتے اس کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے اور تجسسانہ سوالات سے اپنے مخالفین سے بے بنیاد باتیں کہلواتے. حتی کہ وہ اس معاملے کے متعلق لاعلمی ظاہر کر دیتے. اس بحث کے طریقہ کو سقراط کا طریقہِ بحث بھی کہتے ہیں. ان کا یہ یقین تھا کہ تمام لوگ بھلائی کی تلاش کریں.

کی تابع فرمائی کرتے ہیں اور ہدایت اپنے اندر سے پاتے ہیں. ان کو قدرت خود سے سب کچھ سکھا دیتی ہے. وہ روح کی بقا کو مانتے تھے. بت پرستی کے خلاف تھے. 399 قبل مسیح میں جب انکی عمر 72 سال تھی انکے خلاف مخالفین نے یہ دعویٰ کیا کہ انکا عقیدہ رائے عامہ کے خلاف ہے اور وہ سرکاری خداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور شہر کی نوجوان نسل کو تباہی اور گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں. عدالت نے انھیں زہر پلا کر مارنے کی سزا سنائی. اس دور میں زہر پلا کر مارنا سب سے بڑی سزا تھی. انھوں نے عدالت کے سامنے بہت اہم تقریر کی جس کا اقتباس یہ ہے:

اے ایتھنز میں بسنے والو! میں تمھاری دل سے عزت کرتا ہوں. لیکن میں بجائے تمھاری اطاعت اور تابع فرمانی کے خدا کی تابع فرمانی زیادہ بہتر سمجھتا ہوں. اور جب تک میرا دم ہے میں سچائی کی تلاش اور اسے آپ تک پہنچانے میں دریغ نہیں کروں گا. دنیا میں کوئی نہیں جو مجھے خوف دلا کر سچ کہنے سے روک سکے. میں سر تسلیم خم کرنے کی بجائے موت کو بہتر سمجھتا ہوں.

اس کے بعد سقراط نے ملک کے قانون کا احترام کرتے ہوئے زہر کا سرکاری پیالہ پی کر داعی اول کو لبیک کہا. انھوں نے زہر کو بڑے وقار سے پی لیا لیکن باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا. سقراط کو دفن کرنے کے بعد اہل ایتھنز بہت پچھتائے اور سقراط پر الزام لگانے والوں کا بائیکاٹ کیا.

Read in English

جواب دیجئے